ہفتہ 24 جنوری 2026 - 12:31
چار شعبان المعظم؛ وفا کا دن

حوزہ/کربلا کے افق پر جب سورج آگ برسا رہا تھا اور زمین پیاس کی شدت سے انگاروں میں بدل چکی تھی، اُس لمحے تاریخ نے ایک ایسا بلند عظمت انسان دیکھا جو نہ سلطنت کا آرزو مند تھا، نہ فتح و غلبہ کا دعوے دار—وہ صرف وفا کا امین تھا۔ یہ عباس بن علی تھے؛ وہ عباسؑ جن کے وجود نے شجاعت کو اعتبار عطا کیا اور وفاداری کو زبان بخشی، اور جن کی خاموش موجودگی نے باطل کے ایوانوں میں لرزہ طاری کر دیا۔

تحریر: مولانا سید کرامت حسین شعور جعفری

حوزہ نیوز ایجنسی| کربلا کے افق پر جب سورج آگ برسا رہا تھا اور زمین پیاس کی شدت سے انگاروں میں بدل چکی تھی، اُس لمحے تاریخ نے ایک ایسا بلند عظمت انسان دیکھا جو نہ سلطنت کا آرزو مند تھا، نہ فتح و غلبہ کا دعوے دار—وہ صرف وفا کا امین تھا۔ یہ عباس بن علی تھے؛ وہ عباسؑ جن کے وجود نے شجاعت کو اعتبار عطا کیا اور وفاداری کو زبان بخشی، اور جن کی خاموش موجودگی نے باطل کے ایوانوں میں لرزہ طاری کر دیا۔

اور یہ کوئی اتفاق نہیں کہ ایسا علمدار چار شعبان کو دنیا میں آیا—گویا تقدیر نے پہلے دن ہی اعلان کر دیا تھا کہ یہ ولادت کسی عام انسان کی نہیں، وفا کے مجسم معیار کی ہے؛ ایسا معیار جو بعد میں کربلا کی تپتی ریت پر اپنی تکمیل کو پہنچا۔

وہ معرکے میں اس لیے نہیں اُترے تھے کہ اپنی بہادری کا سکہ جمائیں، بلکہ اس لیے کہ حق کی امانت کو اس کے اصل وارث تک پہنچائیں۔ ان کے قدموں میں تیزی ضرور تھی، مگر اس سے کہیں بڑھ کر صبر کا ٹھہراؤ؛ آنکھوں میں عزم کی چمک تھی، مگر دل میں اطاعت کا نور۔ عباسؑ کی شجاعت شور میں نہیں، سکوت میں بولتی تھی—ایسی جرأت جو نفس کو مغلوب کر کے مقصد کو سربلند کر دیتی ہے۔

کربلا میں بہت سے ہاتھوں نے تلواریں اٹھائیں، مگر عباسؑ نے سب سے پہلے اپنے دل کو حسینؑ کے حکم کے تابع کیا۔ یہی وہ قربانی تھی جہاں ان کی ذات ایک بہادر سپاہی سے بڑھ کر ایک زندہ درس بن گئی۔ وہ جانتے تھے کہ وفاداری کا تقاضا یہ نہیں کہ آدمی آگے بڑھ کر سب کچھ جیت لے، بلکہ یہ ہے کہ پیچھے رہ کر بھی حق کی حرمت کو قائم رکھے۔ اطاعت اگر شعور کے ساتھ ہو تو وہ غلامی نہیں، قیادت بن جاتی ہے—اور عباسؑ اسی قیادت کا خاموش استعارہ تھے۔

یہ شجاعت تلوار کی تیزی کا نام نہیں تھی، یہ دل کے عزم کی دھڑکن تھی۔ عباسؑ جانتے تھے کہ کربلا میں سب سے بڑی فتح اپنی خواہش کو حسینؑ کی رضا پر قربان کر دینا ہے۔ اسی لیے ان کی بہادری میں شور نہیں، سکون تھا؛ ان کی جرأت میں غرور نہیں، خشوع تھا—اور یہی خشوع انہیں بلندیوں تک لے گیا۔

جب خیموں سے بچوں کی پیاسی آوازیں بلند ہوئیں تو عباسؑ کے اندر کا بھائی اور محافظ یکجا ہو گیا۔ یہ محض پانی لانے کی اجازت نہ تھی، یہ وفا کی سند تھی۔ وہ فرات کی طرف بڑھے تو ہر قدم کے ساتھ تاریخ ہم قدم ہو گئی۔ دشمن کی صفیں تنگ تھیں، تیر و تلوار کی کاٹ تیز تھی، اور نیزوں کی گھات ہر طرف—مگر عباسؑ کے حوصلے کشادہ، نیت صاف اور قدم ثابت رہے؛ کیونکہ ان کے ارادے یقین میں پیوست تھے۔

فرات کے کنارے پانی سامنے تھا—ہاتھوں میں تھا—اور وہ لمحہ آن پہنچا جس پر انسانیت ہمیشہ کے لیے شرمندہ بھی ہوئی اور سرافراز بھی۔ پیاس اپنی انتہا پر تھی، مگر لب خاموش رہے۔ عباسؑ نے پانی لوٹا دیا؛ اس لیے نہیں کہ پیاس کم تھی، بلکہ اس لیے کہ علی اصغرؑ اور سکینہؑ کی پیاس زیادہ مقدس تھی۔ یہی وہ گھڑی تھی جہاں وفا نے خود کو دوام بخشا اور اخلاق نے اپنی معراج پا لی۔

پھر وہ گھڑی آئی جب بازو کٹ گئے—مگر علم نہ جھکا۔ یہ جسم کی شکست نہیں تھی، یہ باطل کی ہار تھی۔ عباسؑ کا گرتا ہوا جسم اعلان بن گیا کہ حق کا پرچم بازوؤں سے نہیں، نیتوں سے بلند رہتا ہے۔ علمدار گرا، مگر علم تاریخ میں اور بلند ہو گیا، اور کربلا مزید سربلند ہو گئی۔

یوں عباسؑ کربلا میں ایک فرد نہیں رہے، ایک معیار بن گئے—وفا کا معیار، شجاعت کا معیار، اور اطاعت کا معیار۔ تاریخ اسی کو زندہ رکھتی ہے جو مقصد کے لیے جیتا ہے، اور خدا وہی قبول کرتا ہے جو اپنی قوت کو حق کے تابع کر دیتا ہے۔

آج چار شعبان کے دن، ولادتِ علمدارِ کربلا پر، یہ احساس اور بھی گہرا ہو جاتا ہے کہ عباسؑ صرف کربلا کے نہیں، ہر دور کے لیے ہیں۔ جب حق تنہا ہوتا ہے، عباسؑ یاد آتے ہیں؛ جب وفا مہنگی پڑتی ہے، علمدارِ کربلا کی خاموشی بول اٹھتی ہے۔ وہ ہمیں سکھاتے ہیں کہ وفاداری کا راستہ زخموں سے گزرتا ہے، مگر انجام میں رضائے الٰہی لکھ دی جاتی ہے۔

سلام ہو اُس عباسؑ پر! جس کی ولادت وفا کا وعدہ تھی، جس کی شجاعت میں ضبط ہے، جس کی وفا میں قیامت ہے اور جس کے علم میں نجاتِ انسانیت کی شہادت ہمیشہ کے لیے محفوظ ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha